11 جولائی 2011 - 19:30

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ سرزمیں وطن پر پائیدار امن کے قیام کے لیے کہ پوری قوم کو متحد اور منظم کر کے ایک پلیٹ فارم پر کھڑا کرنے کی ضرورت ہے قوم کی اجتماعی طاقت سے ہی ملک دشمن عناصر کے عزائم کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق علامہ جعفری نے ان خیالات کا اظہار ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی دفتر میں راولپنڈی و اسلام آباد کی ماتمی تنظیموں اور انجمنوں کے ایک نمائندہ اجلاس سے خطاب کے دوران کیا. اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی راہنما‎ؤں کے علاوہ انجمن دعائے زہرا،ا نجمن ذوالفقار حیدری،پاک حیدری سکاؤٹس، مرکزی ماتمی دستہ غلامان بتول (س)، مرکزی ماتمی دستہ اسلام آباد، ماتمی دستہ کاروان عباس (ع)، مرکزی ماتمی دستہ فدائیان حسینی اور انجمن فدایان حسینی کے تمائندگان کی بڑی تعداد موجود تھی۔ علامہ ناصر عباس نے کہا کہ ہمارے ائمہ طاہرین (ع) اپنے پیروکاروں کو سربلند دیکھنا چاہتے ہیں اس لیے ہمیں سر اٹھا کر چلنے کا سلیقہ سیکھنا ہو گا، ہمیں وہ کردار ادا کرنا ہوگا جس سے فرقہ واریت کی نفی ہو، اختلاف ختم ہوں اور محبت و بھائی چارے کو فروغ ملے، ہم نہ کسی پر ظلم کریں اور نہ ہم پر کوئی ظلم کرے۔ انھوں نے کہا کہ میدان کربلا میں امام حسین (ع) کے صرف بہتر ساتھی تھے اور انھوں نے انتہائی منظم طریقے سے ایک بڑی فوج کا مقابلہ کیا، مولا علی (‏ع) کی وصیت ہے کہ جو بھی اہلبیت اطہار (ع) کا دم بھرتا ہے اسے مصائب کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے، وہ دشمن جو ہمارے ملک اور قوم کی بربادی پر تلا ہوا ہے ہمیں اس کے ارادے خاک میں ملا دینے چاہئیں، تاریخ شاہد ہے کہ منظم اقلیت ہمیشہ غیر منظم اکثریت پر غالب رہی، کمزور افراد کبھی بھی اپنے وطن اور مذہب کی حفاظت نہیں کر سکتے۔ ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ پاراچنار گذشتہ پانچ سالوں سے دہشت گردوں کے محاصرے میں ہے، سانحہ عاشورا اور سانحہ اربعین کے مجرم ابھی تک گرفتار نہیں ہوئے ان حالات میں اگر ہم اختلافات میں الجھے رہے تو دشمن ہم پر غالب آسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ نوجوانوں کے مربی و راہنما شبیہ رسول (ص) شہزادہ علی اکبر (ع) ہیں جو قرب الٰہی کا وسیلہ ہیں اس لئے نوجوانوں پر لازم ہے کہ کہ وہ ایم ڈبلیو ایم کی جانب سے منائے جانے والے یوم نوجوان سے استفادہ کر کے فیض حاصل کریں۔ انھوں نے بتایا کہ 23 جولائی کو شب شہدا منائی جائے گی اور اس دوران پوری قوم شہدا کے ساتھ تجدید عہد کرے گی، جبکہ 24 جولائی کو محصورین پارا چنار کی امداد کے لیے کاروان امن روانہ کیا جائے گا۔ اس موقع پر کاروان امن کے لیے ایک دس رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔اجلاس سے علامہ محمد امین شہیدی، برادر نثار فیضی اور برادر سید ناصر شیرازی نے بھی خطاب کیا۔    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110

راجہ ناصر عباس جعفری: ہمارے ہاتھ میں پرچم پاکستان بھی ہے اور ہم نظریہ ولایت فقیہ کے بھی پیروکار ہیں